کچھ یادیں بچپن کی

0 comments
ہماری زندگی گویا بہت چھوٹی لیکن یادوں اور تجربات سے بھرپور ہوتی ہے۔ان یادوں کو یاد رکھنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ انکو کسی چیز کے ساتھ نتھی کر دیا جائے۔ہم انسان بچے سے بڑے اور بڑے سے بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن یہ یادیں ہمیشہ جوان رہتی ہیں۔
میرےننھیال کے پرانے گھر  کےسامنے ایک مسجد ہے۔وضو کرنے کے لیے جیسے ہی پانی منہ میں ڈالا۔اس  نمکین پانی کا ذائقہ آج بھی وہی تھا جو آج سے کئی سال پہلے تھا۔لیکن وہ ٹوٹی جسے میرے نانا ابو کھول کر دیا کرتے تھے اب میں خود کھول لیتا ہوں۔نانا ابو میرے کف خود اوپر چڑھا دیتے اور پاؤں دھلوا دیا کرتے کیونکہ مجھے فاصلہ زیادہ ہونے کی بنا پر نیچے گر جانے کا خدشہ رہتا۔ آج میں اپنے بازو خود اوپر چڑھا کر آسانی کے ساتھ اپنے پاؤں دھو سکتا ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ  جہاں نان ابو اپنے جوتے رکھتے میں بھی وہیں اپنی چھوٹی چھوٹی جوتیاں رکھ دیا کرتا اور سوچتا کہ ایک دن میں بھی نانا ابو سے بڑا جوتا پہنوں گا اور اسی جگہ انکے ساتھ رکھوں گا۔
نا نا بو اگلی صف میں کھڑے ہو تے اور میں پچھلی صف میں کھڑا ہو کر مسجد کی چھت کا جائزہ لیتا رہتا۔نماز کے ختم ہونے بعد گھر کی جانب دوڑ لگا دیتا جہاں  اپنے مامو ں زاد بھائیوں کے ساتھ بہت بڑے  کچےصحن میں سارا دن دھما چوکڑی مچائے رکھتا۔نانی اماں (مرحوم) کی لاٹھی لے کر بھاگ جاتا اور انکو تنگ کیا کرتا۔
ماموں کے ساتھ گاؤں سے باہر ایک کھالے( ذرعی پانی کی ترسیل کے لیے بنائی گئی نالی) کے ساتھ قائم پگڈنڈی پر چلتے ہوئے گھنے درختوں کے بیچ سے فصلوں کے درمیان ڈیرہ پر جاتے۔چھوٹے چھوٹے چوزوں اور بکری کے بچوں سے خوب کھیلتے۔ موسم سرما میں میں مالٹوں کا دور چلتا ، آدھا مالٹا کھا کر پھینک دیا کرتے اور نیا  توڑ لیتے۔
واپسی پر آم،کھجور،کیکر یا کوئی بھی چھوٹا سا پودا ملتا تو اسے اُکھاڑ کر گھر لے آتے۔کچے صحن میں پودے کو نصب کرتے اور بڑے ماموں یوسف سے پودے کے لیے دعا کرواتے جو ماموں  جان بخوشی کر دیا کرتے۔
لیکن اگلے روز  پودا مر چکا ہوتا ہم دوبارہ پودے لاتے اور لگاتے رہتے۔
لیکن آج اس صحن کے اندر کئی پکے مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔کہاں گئے وہ دن؟؟؟
ہم کتنے بدل چکے ہیں لیکن زمین اب بھی وہی ہے،وہی پانی کا ذائقہ ہے وہی صحن ہے لیکن اب اس صحن میں مزید کئی صحن ،کمرے اور راہداریاں قائم ہو چکی ہیں۔شائد کہ گزرے وقت کو واپس کھینچ لانا ممکن ہوتا۔

کس امید پر کہئیے کہ آرزو کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر:


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔