لکھنا محض اس لیے ضروری نہیں ہوتا کہ آپکے پاس الفاظ کا ایک
بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے یا آپ نے ایک زندگی تجربات میں گزاری ہے ، بلکے یہ تو ذاتی
حد تک خود کو ہی سنوارنے کا یک فن ہے ۔ کیونکہ فی الحال ہم یا ہم سے پہلے معلوم اور میسر تاریخ میں جو
بھی انسان سوائے امام الانبیا ﷺ مع
انبیاء کے اس جہان میں اترا ہے نا مکمل
ہے اور بد قسمتی سے جیسے جیسے تاریخ کا ہندسہ بڑھتا جا رہا ہے ، انسانوں کی
اندر کمیوں کا تناسب بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔جذبات کی قدر گھٹتی جا رہی ہے اور
بتدریج اخلاقی گراوٹ بھی زہر کی مانند معاشروں میں پھیلتی جا رہی ہے ۔افرادی سطح
سے اجتماعی سطح تک معیارات گرتے چلے جا رہے ہیں ۔ صورتحال یہا ں تک آن پہنچی ہے کہ
محض معاشرے کی بات کرنے والے کو معاشرے کی جانب سے ہی تکلیف پہنچائی جا رہی ہے اور باز رہنے کا کہا
جا رہا ہے ۔ آج کل کی صورتحال میں ہماری اپنی انفرادیت معدوم ہو چکی ہے ، اب تو ہر
معاملہ اجتماعی سطح کا ہے ، کسی کے بھی عمل اور اس کی تشہیر کا کسی نہ کسی پہ اثر
ضرور پڑتا ہے۔ ہم کسی بھی عمل کو کر تو
گزرتے ہیں اور پھر موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آناً فاناً اس کی
تشہیر بھی کیے دیتے ، لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ اس کا اثر معاشرے
پہ کیا پڑے گا ؟ کس کس کے ذہن میں تغیر برپا ہوگا ؟ کس کس سطح کے لوگ اس سے متاثر
ہوں گے؟ اور بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔
یہاں انجام سے مراد محض
وہ نہیں جو لوگ اس سے اخز کرتے ہیں بلکے اس سے مراد وہ سب کچھ بھی ہے جو
معاشرہ ایک مخصوص دورانیے کے بعد آپکو لوٹا
دیتا ہے۔چناچہ ان حالات میں بطور ایک ذمہ دار فرد ہماری ذمہ داری پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے ۔ ہمارے لیے احتیاط کے
پیمانے مزید سخت اور آزمائش مزید
کٹھن کی جا چکی ہے ۔ ہاں اگر آپ ان سے
فرار حاصل کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔
کیونکہ یہ آپکا معاشرہ ہے ،آپ نے انہی میں رہنا اور ان کے
اثر سے کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوتے ہی رہنا ہے ۔ اب دیکھیے ،سوچیے ،اور فیصلہ
کیجیے کہ مثبت تعمیر کے لیے یا تو آپ خود کو تیار کیجیے ، کمر باندھیے اور اس قابل
بنیے کہ لوگون پہ اپنا رنگ چڑھا سکیں ، یا ریوڑ میں موجود ایک بھیڑ بکری جیسی انفرادی زندگی گزار دیجیے ۔۔۔۔۔ اٹھیے ، کمایئے اور مر
جائیے۔۔۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔