رہ سکتا ہوں

0 comments

کچھ الگ کچھ آسان بھی کہہ سکتا ہوں
بے خودی میں الہام بھی کہہ سکتا ہوں
یہ ضروری ہے کہ بس شاد ہی رہا جائے
بے حد خوشی میں پریشان بھی رہ سکتا ہوں
یہ خوشی ہے کہ غم نہیں ہے موجود
ا سی غم میں ہلکان بھی رہ سکتا ہوں
آمد یاراں سے ابھی مجھکو  مطلع رکھنا  
آدمی ہوں فقط امکان بھی رہ سکتا ہوں

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔