دسترس

0 comments

دیکھتا ہوں سب مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں
ہوں میں سب کے سامنے پر سامنے آتا نہیں
جو ہے میری دسترس میں ہے مجھے معلوم پر
جو ہے میری دسترس  مجھسے کیا جاتا نہیں
کہنے کو تو کہہ رہا ہوں وہ بھی جو نہ کہہ سکا
  کہتے کہتے رہ گیا ہوں جو کہا جاتا نہیں
ہے یہ بزمِ آخری  کیونکر زہر  باقی رہے
زندگی کا اور  یہ ساغر پیا جاتا نہیں

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔