قرض

0 comments

دوستی دشمنی تو سبھی رکھتے ہیں،ظاہر ہے اختلافات بھی ہوتے ہیں،  جھگڑے بھی ہوتے، پھر اکثر دوستیوں میں اس قدر جھگڑے ہوتے ہیں کہ یہ ایک "عادت" بن جاتی ہے  اور ہوتا یہ ہے کہ فریقین میں سے "احساس" جاتا رہتا ہے. جب احساس جاتا رہتا ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں مگر  اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دل مضبوط ہو جاتے ہیں. ادھر احساس کی گرفت کمزور ہوئی اُدھر رشتے بدل گئے،جب اتنا کچھ بدل گیا تو رفتہ رفتہ انسان کی عادات بھی بدل جاتی ہیں. ارے ہاں میں وقت کو تو بھول ہی گیا، وہ کون سا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے،  چلتا رہتا ہے،  گزرتا رہتا ہے....
مگر وقت جیسا بھی ہو "احساس" کا وزن پھر بھی سب سے زیادہ ہے. وگرنہ احساس ہی نہ ہو تو پیچھے بچتا کیا ہے؟
رسمیں! ....  وہ تو پہلے بھی نبھائی جاتی رہی ہیں اور آگے بھی نبھائی جاتی رہیں گی...!
بالکل ایک قرض کی طرح..... آہستہ آہستہ مگر ایک مخصوص مدت تک اور اس کے بعد   ....ہر قسم کی اخلاقی پابندی سے.... .  دائمی آزادی... گویا قرض ادا کر دیا ہو !

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔