فن گائیکی

0 comments
فن گائیکی چند مشروط ترین فنون میں سے ایک ہے . اس سے ہماری نام نہاد رغبت فقط تان سین کے مسلمان ہونے کی وجہ سے تھی. لیکن بعد میں پتا چلا کہ تان سین جب تک گائیکی کے سر ایجاد کرتے رہے تب تک وہ غیر مسلم رہے اور قریب المرگ مسلمان ہو گئے، گویا کہ  ان جدید معلومات کے بعد ہماری وہ رہی سہی رغبت بھی جاتی رہی. اول تو اس کے لیے جو سامان یااوزار مطلوب ہیں انکا ہمارے جیسے قدیم شرفاء کے گھر نظر آنا شجرہ نصب کو مشکوک بنا دینے کے مترادف ہے. جبکہ جدید شرفاء کے ہاں یہ پابندی فی زمانہ معدوم بلکے متروک ہوتی دکھائی دیتی ہے. جبکہ جو شرفاء ان دنوں خود کو جدید کہلوانا پسند کرتے ہیں وہ اصولاً شرفاء کی فہرست سے لا تعلقی کا اعلان کرتے  ہیں. یہ تو بات تھی ساز و سامان کی اب دوسری اہم چیز ہے اچھی آواز اور دم دار گلا، جن سے راقم الحروف اوائل سے ہی محروم رہے ہیں. آواز کے حوالے سے یہ نظریہ بھی قوی ہے کہ انسان کو ہر صورت  اپنی آواز شیریں اور کانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوتی. جبکہ یہی آواز کسی سننے والے پہ کیا اثر کرتی ہے اس کا فیصلہ سامع ہی کر سکتا ہے .جہاں تک بات ہے دم دار گلے کی تو اگر وہ پیدائشی طور پر موجود ہے تو سبحان اللہ وگرنہ بصورت دیگر اس کے لیے نہار منہ عجیب و غریب آوازوں پر مشتمل صوتی ورزش جسے باعزت طور پر "ریاضت "  کہا جاتا ہے، کی جا سکتی  ہے. اس کے لیے آپ ایسے مددگار الفاظ جو جملوں کو ملانے کے لیے استعمال ہوتے ہوں مثلاً گا، کا، نے وغیرہ اور ہمارے ہاں اندرون پنجاب  بولے جانے والے نام مثلاً گاما، راما، پا وغیرہ کا کھلم کھلا اور آزادانہ استعمال کر سکتے ہیں. احباب کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس فن میں عبور پانے کے لیے اہل علاقہ سے دشمنی مول لینی پڑتی ہے اس عجیب و غریب بات کا مطلب اخز کرنے کے لیے جب ہم نے تحقیق کا دائرہ وسیع کیا تو معمول ہوا کہ اگر آپ صبح سویرے نہار منع مرغے(مرغ سے انتہائی معذرت کے ساتھ) کی طرح انسانی آواز میں ہاہوکار مچائیں گے تو اوس پڑوس میں موجود عام انسان اس سے شدید متاثر ہوں گے اور جلد از جلد متعلقہ حکام کو اس سے آگاہ بھی کریں گے.اس کے بعد جو قانونی و مالی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں انسے ایک پنجاب کا عام باسی خوب واقف ہے. اگر آپ کا اسی علاقے میں سالہا سال رہنے کا ارادہ ہے تو میری بات مانیے اور یہ کام انہی کو کرنے دیجیے جو پہلے  سے اسے  کر کے عوام الناس کا قیامت سے پہلے ہی امتحان لے رہے ہیں.وگرنہ 
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی 
کے مصداق رہی سہی عوامی مقبولیت بھی جاتی رہے گی اور ممکنہ طور پر فن کی بھی مدلل قسم کی تذلیل واقع ہو سکتی ہے .
تحریر 
ملک انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔