دوران رمضان پوری امت بالعموم" توم گرمائی" میں مبتلا ہو جاتی ہے ایسے میں گرم تر تھپیڑوں اور دھوپ میں گر آپکو ہماری طرح ہفتے میں متعدد بار سیونٹی سی سی پہ سوار ہو کر شیخوپورہ سے لاہور کا سفر کرنا پڑے تو زہن تشکیک کے کن کن مراحل سے گزرتا ہے.... خدا کی پناہ.....!
تمام سائے سمٹ کر موٹر سائیکل کے آگے آتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، اور موٹر سائیکل ایک عجیب کشش کے زیر سایہ ٹرک وغیرہ سے بغل گیر ہونے کی کوشش میں سرگرداں رہتی ہے، جسے بار بار بذریعہ ہینڈل راہ راست پہ ڈالنا پڑتا ہے.
ارے ہاں اس کے علاوہ اگر ذہن کوئی سوچ، سوچنے کی کوشش بھی کرے تو ذہن کو قسطنطنیہ اور غرناطہ کے باغات سے سول ہسپتال کے در و دیوار کا واسطہ دے کر کان پکڑ کر واپس لانا پڑتا ہے.کیونکہ بقول شخصے سر میں لگی ایک چھوٹی سی چوٹ بھی اچھے بھلے انسان کو "یوتھیا" بنا سکتی ہے. توبہ توبہ.....!
اس سے بچنے واسطے ہم نے ایک عدد ہیلمیٹ خرید رکھا ہے، جس کا سہرا لبرٹی چوک میں کھڑے اس طویل قابل بے رحم اور سفاک ٹریفک وارڈن کے سر جاتا ہے جس نے اوائل میں ہی چالان کاٹ کر ہمارے "وہابی" ذہن کو غلطی تسلیم کرنے پہ مجبور کیا تھا.
عموماً ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے ضمن میں پیشگی ہی کوئی "موٹیویشن" گھڑ لی جائے، مگر آج صبح یہ نوبت ہی نہ آ سکی، کیونکہ آج فجر کے بعد کا درس ملی مسلم لیگ کے مذہبی ونگ سے تعلق رکھنے والے مدرس نے دیا تھا. اس لیے آج کے لیے اچھی خاصی موٹیویشن جمع ہو گئی ہے..... ایمان سے.... 😂
ارے ہاں یاد آیا کہ یہ اپنے وہی بھائی ہیں جو دعاؤں اور کارگزاریوں میں کشمیر کے بعد سیدھا فلسطین کا ذکر کرتے ہیں اور درمیان والے ہمسایہ خطے کو دانستہ طور پہ "حزف" کر جاتے ہیں...!
وہ کسی شاعر کیا خوب کہا ہے...
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
"عقل" ہے محو تماشائے لب بام ابھی
لیجیے بات شروع کہاں سے ہوئی تھی اور پہنچی کہاں تک.... کیونکہ دل کی بات تھی، جہاں چاہے لے جائے اور جہاں چاہے پہنچا دے. شاد رہیے آباد رہیے... اور دعاؤں میں یاد رکھیے.
حامل اکاؤنٹ ہذا :
محمد انس اعوان
بشکریہ:
سوفٹ Swift کی بورڈ، کیو موبائل ایل ٹی سیون ہنڈرڈ پرو شریف










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔