بازار میں خوب گہما گہمی تھی، جٹ صاحب میز پہ رکھی ہوئی چائے کی پیالی کی دونوں اطراف ہاتھ دھرے گہری سوچ میں غرق تھے...
ادھر ہماری چائے نصف رہ چکی تھی،جیسے جیسے چائے ختم ہو رہی تھی ہمارا تجسس بھی بڑھ رہا تھا.....
ایسے میں ہم نے تمہیدی طور پہ گلہ صاف کر کے، پوچھا
"جٹ صاحب کیڑیھیاں سوچاں وچ او ؟"
جٹ صاحب نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگے...
"یار انس ویکھ جے دنیا وچ چا دا ایے ذائقہ ایے تے جنت وچ کی عالم ہووے گا....!"
(یار انس اگر دنیا میں چائے کا اتنا اچھا ذائقہ ہے تو جنت کی چائے کیسی ہو گی)
ہم بھی فرطِ جزبات میں آ کر میز پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولے....
"یارا ایہ گل تے میں کدی سوچی وی نئیں سی "
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔