دو بزرگ خواتین علیحدہ علیحدہ اسٹریچر پہ لیٹی ہوئی تھیں، جبکہ ہم اتفاقاً سر والی جانب کھڑے ہوئے تھے، اسی اثنا میں پاس سے ایک لیڈی ڈاکٹر گزریں، جن کے گزرنے کے بعد درد سے کراہ رہی ایک خاتون دوسری خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگیں
"نیں بھینڑیں ڈاکٹرنی دا سوٹ تے ویکھ "
(بہنا زرا اسی ڈاکٹرنی کے کپڑے تو دیکھنا)
بس اس کے بعد دونوں خواتین نے درد تکلیف بھلاتے ہوئے باہمی دلچسپی کے امور پہ سیر حاصل گفتگو شروع کر دی.
کچھ دیر بعد ہم ہمت جمع کر کے بولے، خالہ جان اللہ توبہ کریں یہ کوئ جگہ ہے ایسی باتیں کرنے والی؟
آگے سے جواب یہ آیا..
"ویکھ ہاں وڈا آیا مولوی"
😂😂
ملک انس اعوان
بمقام :میو ہسپتال لاہور
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
ڈاکٹرنی
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
انس نامہ,
زندگی,
مزاحیہ تحریر
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔