رئیس ٹینکی اور جمعیت
جن دنوں والد محترم پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی جمعیت کا حصہ تھے ان دنوں اسلام پورہ کے ریہائشی" رئیس ٹینکی" نامی بلند قامت نوجوان کی غنڈہ گردی عروج پر تھی، موصوف ہر دوسرے دن جمعیت کے پرچم پھاڑ دیا کرتے تھے. ایک روز والد محترم اور انکے چند دوستوں کی اسی غنڈے سے جامعہ کے اندر حادثاتی ملاقات ہو گئی.
ابا جان اور انکے ساتھ موجود لڑکے تعداد میں کم تھے لیکن پھر بھی انہوں نے رئیس ٹینکی کو روکا اور پرچموں کے حوالے سے بات کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ
ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایک دو سالہ بچے کے والد اور والدین کے لاڈلے بیٹے ہیں، جمعیت کے پرچم پھاڑنے سے آپکو کیا ملے گا، آپ پھاڑتے رہیں گے اور ہم لگاتے رہیں گے، لیکن جن لوگوں کے ایما پہ آپ یہ سب کر رہے ہیں ایک دن انہی کے ہاتھوں آپ کا انجام ہوگا، آپ سے پہلے بھی لوگوں کا یہی انجام ہوا ہے، اپنا نہیں تو اپنے والدین اور بچے کا ہی خیال کیجیے "
صورتحال کشیدہ ہونے کہ بجائے دونوں اطراف کے لوگ منتشر ہو گئے.
اس واقعے کے کم و بیش 28 دن کے بعد رئیس ٹینکی کو انکے اپنے ساتھیوں نے کسی تنازعہ پہ حمام میں دوران غسم برسٹ مار کر سینے کے دو حصے کر دیے تھے.
اسی رئیس ٹینکی کا ایک دوست ہسپتال میں والد صاحب کے ساتھ والے بیڈ پہ لیٹا ہوا ہے، اور اس کے چند اور دوستوں کے علاوہ رئیس کو کوئی بھی نہیں جانتا ......!
جمعیت کو مٹانے والے کئی آئے اور چلے گئے....
لیکن جامعہ پنجاب میں آج بھی جمعیت کا بول بالا ہے.
میرے والد یعنی ملک مسعود احمد کو کل بھی اپنے انتخاب (جمعیت) پہ ناز تھا اور آج بھی انہیں اس پہ فخر ہے. اسی جمعیت سے انکا بیٹا یعنی کہ میں بھی سابق ہو چکا ہوں ... اور ان شاءاللہ(آمین بالجہر) اگلی نسل بھی اس تحریک کا ایندھن ثابت ہو گی.
جئے ہزاروں سال..... جمعیت ❤️
ملک انس اعوان
12 فروری 2018










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔