آج صبح کچھ کاغذات کی وصولی کے سلسلے میں سرگودھا جانا پڑا، لوکل ٹرانسپورٹ میں شیخوپورہ سے سرگودھا کے لیے بندیال کوچ بہترین رہتی ہے. صبح تو سفر اللہ کے فضل و کرم سے اچھا گزرا مگر واپسی پہ جس گھٹنا نے ہمارا دل گھٹائے رکھا وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے تو ہم دو سیٹوں والی رو میں بیٹھے، جہاں ہمارے ساتھ، ہم سے بھی دوگنی صحت کے صاحب تشریف فرما تھے مگر اور کوئی جگہ تھی نہیں سو بیٹھ گئے. الحمداللہ اللہ نے ٹانگیں ہی اتنی لمبی دیں ہیں کہ لوکل ٹرانسپورٹ میں کبھی کبھار ہی ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، بشرطیکہ سیٹوں کے درمیان اتنی گنجائش موجود ہو.
بہرحال جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اسی طرح دو سیٹوں پہ ہم جیسے دو افراد بشمول ہماری ٹانگیں نہیں رہ سکتے تھے ، چنانچہ اپنی سہولت کے لیے ہم نے امخالف رو(جس میں تین سیٹیں نصب ہوتی ہیں) نقل سیٹی (نکل مکانی کے اصول پہ) کر لی.
اب کچھ دیر بعد ساتھ والے صاحب کے سر میں درد ہونا شروع ہو گیا اور چند ہی لمحے بعد انہوں نے الٹیاں کرنا شروع کر دیں. میں نے ایک عدد مومی شاپر انکے حوالے کیا مگر اخلاق سے نابلد و غیر تہزیب یافتہ بندے نے اس تردد میں پڑنا پسند ہی نہیں کیا . وہ الٹی پہ الٹی کیے جا رہے تھے. گویا وہ پچھلے 1گھنٹے سے میرے ہی انتظار میں بیٹھے تھے کہ یہ آئیں گے تو ہی میں الٹیاں شروع کروں گا، خدا جانتا ہے، اور خدا معاف بھی کرے کہ ایک پنجابی ہونے کے ناطے ہم پہ وہ فطری کیفیت طاری ہو گئی جس میں ایک پنجابی اپنے حافظے کے زور پہ تمام ممنوعہ الفظ اور انکی تراکیب کو ایک آبشار کی طرح دل و دماغ سے زباں کی جانب روانہ کر دیتا ہے.
لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ایسے موقعوں پہ ہمیشہ کی طرح اندر کا جماعتی جاگ جاتا ہے اور زبان کے آگے بند باندھ دیتا ہے......!
اس وقت راقم الحروف اسی بس میں کھڑے ہو کر سفر کر رہے ہیں اور ایسی بے تکی تحریر لکھ کر اندر کے آتش فشاں کو دبا رہے ہیں.
صابر :انس اعوان
30 فروری 2018










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔