لذت حیات

0 comments

ایک عزیر دوست کے اصرار پہ تیراکی سیکھنے کے لیے وقت  مختص کیا گیا، تیراکی کے بنیادی اصول اسی دوست نے سکھائے اور پھر انہی مخصوص حرکات کا استعمال شروع کیا گیا، یہاں سے ہمارے مشاہدے کا آغاز ہوا چاہتا ہے. پانی کے مزاج اور طبعیت سے نا واقفیت کی بنا شروع کے ہفتے میں  صرف ہاتھ پاؤں چلانے سے اور جسم تھکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا. پھر چند دنوں بعد کنارے پہ بیٹھ کر پانی کے جسم اور اس کی طبعیت پہ غور کیا کہ اسکا مزاج کیا ہے اور یہ کیسے کیسے اپنے جسم میں خلا کو پیدا اور پھر اُس کو پُر کرتا ہے. یہ کس طرح کی چوٹ پہ نرم اور کیسی ضرب پہ پلٹ کر وار کرتا ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے ہونے کا یقین اپنی ہیئت کے اعتبار سے پختہ کیا گیا. پھر اپنے ہاتھ پاؤں اور جسم کو پانی کے جسم سے مطابقت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا. تجربے نے بتایا کہ دوسرے ہی ہفتے ہاتھوں اور جسم نے پانی میں سے اپنے جسم کا خلا پیدا کرنے اور اور اس خلا کو مسلسل آگے بڑھاتے چلے جانے کی اہلیت حاصل کر لی ہے.
یہی سیکھنے کا عمل ہمارا ذہن زندگی میں  مختلف مقامات پر مسلسل پہ شروع بھی کرتا رہتا ہے اور نتائج بھی اخذ کرتا رہتا ہے، یہی نتائج فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں. دراصل یہ زیست کا بہتا دھارا بھی پانی کی طرح ہی ہوتا ہے جس کے اندر شروعات میں ہم صرف ہاتھ پاؤں چلا کر خود کو تھکا لیتے ہیں اور پھر تھک ہار کر ایک جانب بیٹھ جاتے ہیں. یہ ہمارا  سیکھنے کا پہلا عمل ہوتا ہے جہاں ہم چیزوں کو اپنے انداز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب کوشش امید پہ پوری نہ اتر سکے تو نا امیدی ہمیں گھیر لیتی ہے. اکثر لوگ یہیں پہ ہار مان لیتے ہیں، جبکہ باقی کے لوگ اسی وقت دوسری کوشش کی جانب بڑھ جاتے ہیں. اور کچھ لوگ اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں. دوسروں سے سیکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو مستقبل میں نئی جہت دریافت کرنے کی قابلیت سے محروم ہوتے ہیں. جبکہ نئی جہت دریافت کرنے والے بار بار زیست کے دھارے میں گرتے  ہیں اور گہرائیوں کے شوق میں اپنی جانوں کو غذاب سے گزارتے ہیں، تبھی تو وہ ایک مدت کے بعد تہہ میں سے ایک پتھر کو تراش کر شاہکار تخلیق کر پاتے ہیں. انہی میں سے کچھ لوگ رستے میں ہی جان سے چلے جاتے ہیں مگر انکا شاہکار بعد میں آنے والوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور یوں وہ دریافت کردہ "جہت" جدت کے عمل سے گزرتی رہتی ہے.
البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ تو ہار ماننے والوں میں سے خود کو شمار کرتے ہیں اور نہ ہی خود کوئی شاہکار تراشنے کی ہمت رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہلکے پانی میں تیراکی سیکھتے ہیں اور زندگی کے دھارے میں سینکڑوں ان گنت بے جان جسموں کی طرح تیرتے رہتے ہیں، جنہیں وقت کی موجیں جیسے چاہیں پٹختی اور گھسیٹتی رہتی ہیں. اور یہ لوگ  اپنی مردہ ضمیری کے باعث حیران کن طور پہ اپنے زندہ رہنے پہ ہی خوش ہوتے ہیں. انکے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ "لذت حیات" سے نا آشنا مردہ اجسام زمین کا بوجھ ہوتے ہیں جنکو وقت کی موجیں گم نام ساحلوں پہ عبرت کے لیے پھینک دیتی ہیں.
1 جنوری 2018
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔