بوقت سہ پہر موٹر سائیکل پہ ہیلمیٹ پہنے ہم اپنی عمر کی طرح شاہراہ زندگی پہ تیز رفتاری سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے، ایسے میں ذہن کی گنجان آباد گلیوں میں بچپن کی یادیں کھلکھلانے لگیں اور ایک سوال جو میں اکثر ابا جان سے پوچھا کرتا تھا کہ "یہ ہوا کیا ہوتی ہے، اگر ہوتی ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ "
تب میں کسی بھی جواب سے مطمئن نہ ہو پاتا تھا اور اکثر ہوا کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا تھا. لیکن آج سفر کے دوران وہی ہوا ہمیں پیچھے کی جانب دھکیل رہی تھی، اس کا لمس ہمیں اپنی چمڑے کی جیکٹ سے ہوتا ہوا سینے پہ بھی محسوس ہو رہا تھا. ہمارے ساتھ ساتھ چند پرندے بھی اڑ رہے تھے، اور حیرت انگیز طور پر میں تخیلاتی آنکھوں سے ان کے پروں کے نیچے پھسلنے والی ہوا کو دیکھ سکتا تھا. ایک ایسے بے حد نفیس اور دبیز جسم کی صورت میں جو ساری دنیا پہ بچھا دیا گیا جسے ہم فضا کہتے ہیں.
ایسی ہی فضا ہمارے گرد بھی ہوتی ہے اور اس سے ملتی جلتی ایک اور فضا ہم سب کے درمیان میں بھی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن چمڑے کے اندر پڑے ہوئے دل پہ اثر انداز ضرور ہوتی ہے. اور اس فضا کے عناصر فی کس مختلف ہوتے ہیں، اگر ہمارے مابین "انا" نامی فضا ہو تو ہم ایک دوسرے سے فاصلے بنائے رکھتے ہیں، جو اس فضا میں جیتے ہیں وہ جھکنا اور غلطی تسلیم کرنا بھول جاتے ہیں. انا کا زہریلی ہوا انکی سانس میں رچ بس جاتی ہے اور وہ اس انا کی تسکین کے لیے مزید ایسی فضا اپنے گرد تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں. نتیجتاً بقا کی چاہ میں گُم ہو جاتے ہیں. انکا وجود راکھ میں تبدیل ہو کر لوگوں کی راہ کی خاک بن جاتا ہے. دوسری جانب کچھ لوگوں کو محبت کی فضا راس آتی ہے، خوشبوؤں سے معطر وزن میں ہلکی لطیف ہوا جس میں وجود آہستگی سے گھل کر سراپا تسلیم، عاجزی، اعتراف اور اطمینان کے رنگین دھوئیں میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسے جیسی جگہ ملتی ہے وہ وہاں سما جاتا ہے، جیسا رنگ ملتا ہے ڈھل جاتا ہے، جیسی زمین ملتی ہے رُل جاتا ہے، غرض وہ اپنی خواہش سے دستبردار ہو کر کسی اور کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے. ایسی فضا بنانے سے بنتی ہے اور تو اور بندگی کا مقصود بھی یہی فضا تو ہے....!
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
ہوا کی بات
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
انس نامہ,
تحریر,
تصوف,
روز نامچہ,
Malik Anas Awan
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔