تمام مشاہدات ایک طرف اگر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اوپر نافذ (معاشی، معاشرتی، اخلاقی) فرائض کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ ہم سب سماجی طور پر اپنے اپنے دائرے میں ظالم ہیں. آپ یا ہم کوئی بھی اس ظلم سے مستثنٰی نہیں ہیں . دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ظلم کا اندازہ اپنے سے بڑے ظالم کو دیکھ کر ہوتا ہے. ہسپتال میں اپنے والدین کے ساتھ آئے ہوئے نوجوانوں جن میں ہم بھی شامل ہیں کو دیکھتے ہیں اور جب انکے تاثرات دیکھتے ہیں تو روح تک لرز جاتی ہے کہ والد یا والدہ کی انتہائی نازک صورتحال بھی انکو موم نہیں کر پاتی ہے اور ان کے معاملات جوں کے توں چلتے رہتے ہیں. باپ جان کی بازی لڑ رہا ہوتا ہے اور پاس موجود بیٹا موبائل پہ اپنے شغل پورے کرنے میں مصروف ہوتا ہے. اس میں ٹیکنالوجی کا قصور کم اور ہمارا قصور زیادہ ہے(کیونکہ ہمارا تعلق بھی اسی نسل سے ہے) . ہم جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں یہ سوچتی ہے اور مانتی ہے کہ ہم اس دنیا کے سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے، اپنی اپنی ذاتی حیثیت میں دنیا کے نامی گرامی افلاطون ہیں.بالفرض ہوں گے بھی.....!
ہم مانتے ہیں کہ ہماری معلومات، ہمارے رابطے ہمارے والدین سے زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں. ہم اپنے والدین کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے آئی فون وغیرہ پہ فیس بک کی تحریر اور میسج لکھ پاتے ہیں.
لیکن ایک لمحہ ٹھہریے ان اچھے کیمرے والے موبائل فون، خوبصورت تیز رفتار گاڑیوں سمیت ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے سوائے ایک چیز کے جسے ہم احساس کہتے ہیں. یہاں ہمارے جیسے اکثر نوجوان ٹیکنالوجی پہ تنقید کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شاید ٹیکنالوجی کو چھوڑ دینے کا کہا جا رہا ہے.ٹیکنالوجی کے ہونے اور نہ ہونے سے تب تک فرق نہیں پڑنے والا جب تک ہم "احساس" بیدار نہیں کر لیتے ہیں.
یہاں سماجی احساس بیدار کرنے کے دو ہی منبع ہیں، ایک ہمارا سماج اور دوسرا مذہب. کیونکہ برصغیر میں معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک ہی قوت ہے جو کہ مذہب ہے .خوشقسمتی دیکھیے کہ یہاں ملک پاکستان میں ہمیں اسلام جیسی نعمت دستیاب ہے جس میں بالمتفق(مسلم و غیر مسلم) ہمارے پاس ایک انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہوا اکمل، اکبر و اجمل نمونہ اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہے. قصہ مختصر اس معاشرے کی کم از کم بقا اور بنیادی انسانیت کی افزائش کے لئے بھی" مذہب" ضروری ہے. اور ترقی کے لیے "دین" ناگزیر ہے.
تحریر
ملک انس اعوان
Ad
موضوعات
(1)
اٹک
(14)
احساس
(1)
ادب
(11)
استنبول
(4)
اسلام
(61)
اسلام ،سیاسی
(1)
اشعار
(1)
اعتکاف
(1)
افسانہ
(1)
الحاد
(3)
امام
(1)
انس انقلابی
(1)
انس نامہ
(233)
آزادنظم
(5)
بچپن
(3)
بنگلہ دیش
(1)
بھارت
(1)
پاکستان
(58)
پہلا روزہ
(1)
تحریر
(137)
تحقیق
(44)
تخیل
(8)
ترجمہ
(1)
ترکی
(3)
تصوف
(15)
توبہ
(2)
ثقافت
(13)
جدید تعلیم
(6)
جماعت اسلامی
(9)
جمعیت
(1)
چائے
(1)
حا
(1)
حسن البنا
(1)
حمد
(1)
خط
(3)
خیال
(9)
دعا
(3)
دنیا
(6)
دوست
(13)
ڈائری
(14)
راہبانیت
(3)
رمضان المبارک
(2)
رنگ
(3)
روز نامچہ
(37)
زندگی
(81)
سائینس
(1)
سفر
(13)
سفرنامہ
(6)
سیاست
(30)
سید مودودی
(1)
سیدقطب
(2)
سیر
(8)
سیکیولرازم
(5)
شاعری
(111)
شوگران
(1)
علم
(28)
عید
(1)
غزل
(63)
غزل فلسفہ
(3)
فلسفہ
(36)
فلسفہ شہادت
(4)
قاضی حسین احمد
(2)
قواڈ کوپٹر
(1)
کاش
(28)
کرب
(3)
کشمیر
(1)
کھوڑ
(1)
گاؤں
(1)
لاہور
(4)
لسی
(1)
ماں
(2)
محرم
(1)
مزاحیہ تحریر
(37)
مسجد
(13)
مشرق وسطی
(3)
ملک انس اعوان
(13)
مودودی
(1)
مولوی
(3)
نعت
(1)
نوجوان
(13)
وادی سون
(1)
والد محترم
(2)
وضو
(1)
ہیومن ازم
(1)
یادداشت
(4)
یونیورسٹی
(10)
Anasinqilabi
(2)
Business
(1)
CIIT ATTOCK
(117)
Column
(29)
COMSATS ATTOCK
(112)
CSAC
(11)
English
(4)
humanism
(3)
Islam
(1)
Malik Anas Awan
(127)
Mother
(1)
Turkey
(1)
آمدو رفت
دین کی ضرورت
Muhammad Anas Awan
0
comments
0
comments
اس تحریر کو
اسلام,
تحریر,
روز نامچہ,
سیکیولرازم,
ملک انس اعوان,
Malik Anas Awan
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔