مانتا ہوں..

0 comments
ہاں مانتا ہوں کہ یہ پہاڑ یہ جھرنے یہ چشمے یہ بل کھاتی ندیاں، یہ سرگوشیاں کرتی ہوئی نرم سرد ہوا،  برف پوش کہسار بے انتہا خوبصورت ہیں. مگر یہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ عبرت کا نشان بھی ہیں،    صدیوں سے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ یہ متواتر موسموں اور آفات کو جھیلتے ہوئے اب تک کسی نہ کسی حد تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن کچھ ایسا بھی ہے جس کے بدلنے کی رفتار ان سب سے زیادہ ہے، وہ ہیں ہم انسان،  ہم جیسے کئی  سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان پہاڑوں پہ آئے سستائے، لطف اندوز ہوئے اور بالآخر مجبوراً یا عادتاً یہاں سے چلتے بنے یا لیجا ئے گئے. پھر اور کئی جو ہم سے کئی گنا بہتر نظر اور زہن رکھنے والے یہاں سے گزرے اور شہر ہنگامہ میں نایاب ہو گئے. اس قدر نایاب کہ ان جیسا ڈھونڈ کر لانا بھی ناممکن ہو گیا. انکے نایاب ترین خیالات صفحے یا کلام کی صورت میں ڈھلنے سے پہلے ہی زیر زمین غرق ہو گئے. مگر یہ سر سبز پہاڑ یہ وادیاں پھر بھی صفحہ زمین پہ موجود رہے. ان پہ آنے والے فنا کے راہیوں نے بقا کی نظر سے انکو دیکھ کر بقا کی چاہت کو دل میں بسایا ہے.مگر یہ بقا اور فنا کے سارے قصے میں  سمجھنے کی اہم بات یہی ہے کہ اگر ان کی ہی مانند مردہ خوبصورت اور برقرار نظر آنا مقصود ہے تو اس کے لیے زیادہ ضروری چیز بے حسی ہے بالکل انہی پہاڑوں کی مانند جن پر سے کئی لوگ گزرتے اور مرتے ہیں مگر یہ ہاتھ آگے بڑھا کر نہ تو روکتے ہیں اور نہ ہی مرنے کی کوشش کرنے والے کو اپنے دامن میں سنبھالتے ہیں. بلکہ بے حسی کی تصویر بن کر حیات انسانی کا تماشا دیکھتے ہیں. پتہ نہیں انسان انسے کیوں متا ثر ہوتے ہیں حلانکہ ایک انسان کے اندر کی خوبصورتی کی ایک چھوٹی سی رمق بھی ہر لحاظ سے اعلی اور بالا ہے. اور اگر کوئی انسان اس حد تک گرنا چاہے تو چاہتے ہوئے بھی گر نہیں سکتا، کیونکہ یہ ندیا اور دریا تو کمی یا زیادتی کے ساتھ بہتے رہیں گے مگر اس وقت میری طرح یا مجھ سے بہتر یا مجھسے بدتر لوگ یہاں آ آ کر اپنا کردار ادا کر کے قرطاس سے غائب ہوتے جائیں گے، ان کی جگہ نئے چہرے سبزہ زاروں کی زینت بن جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو گی. یہی افراد اور لوگ ہی تو قابل قدر اور قابل توجہ چیز ہے. ورنہ ان پہاڑوں کی قدر ہی کیا ہے..... قریباً نہ ہونے کے برابر..! 
ملک انس اعوان
کنہٹی گارڈن ، وادی سون ،خوشاب،پنجاب ،پاکستان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔