گرداب

0 comments
بانہیں دھر کہ آہنی جنگلے کے سینے پہ 
میں پانی کے دائروں سے بات کرتا ہوں
ادھر اُدھر پھوٹتے ہوئے  گرداب 
لمحہ لمحہ حجاب کرتے ہوئے 
لہر در لہر ابھرتے ہیں 
ڈوب جاتے ہیں 
جیسے کوئی نیا شاعر 
بانہوں میں غزل بھرتے ہوئے




ملک انس اعوان 
20 اگست 2016 
خانپور نہر

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔