شام میں پہلی بار دہائیوں بعد ایک حقیقی مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) بننے جا رہی ہے۔بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے جو بدنام زمانہ بعث پارٹی کے تسلط سے آزاد ہوگا، یاد رہے کہ بعث پارٹی 1963 کے فوجی انقلاب کے بعد سے ملک پہ قابض تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شام کا پہلا الیکشن ہے جو بلاواسطہ انتخابی طریقے (Indirect Election) کے زریعے سے وقوع پزیر ہوگا ۔
براہ راست انتخابات کیوں نہیں ؟
شام کی موجودہ غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر، اور ان مشکلات کے باعث جو شہریوں کے رہائشی پتے طے کرنے میں درپیش ہیں ،خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو آزادی کے بعد وطن واپس آئے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ اُس بڑے پیمانے پر آبادی میں تبدیلی کے سبب جو انقلاب کے برسوں کے دوران بعض علاقوں میں اجتماعی ہجرت کے نتیجے میں ہوئی، براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے مجلسِ الشعب (پارلیمنٹ) کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شام کے نئے صدر احمد الشرع نے سنہ 2025 کا صدارتی فرمان نمبر (143) جاری کیا، جس میں نئی مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے انتخاب کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ یہ طریقہ انتخابی مجالس (Electoral College) کے ذریعے ہوگا، جو مختلف یورپی ممالک، کیوبا اور دیگر جگہوں پر مختلف صورتوں میں رائج ہے۔
بلاواسطہ انتخاب (Indirect Election) کیا ہے؟
پاکستانی نظام میں عوام براہِ راست امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جیسے ہمارے ایم این اے/ایم پی اے ۔
لیکن شام کے اس نظام میں عوام براہِ راست ووٹ نہیں دیں گے۔
بلکہ حکومت کی جانب سے ایک درمیانی سطح پہ Electoral College کی تشکیل دیا جائے گا ۔
یہ کالج مخصوص افراد پر مشتمل ہوگی، جو پھر مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ کے اراکین منتخب کریں گے۔
انتخابی مجلس Electoral College
یہ وہ افراد ہوں گے جنہیں ایک آزاد کمیٹی چھانٹ کر منتخب کرے گی۔یہی لوگ امیدواروں کو ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے۔ہر صوبے/علاقے کے حساب سے مخصوص تعداد رکھی جائے گی، جیسے پاکستان میں ہر ضلع/حلقے کی نشستوں کا کوٹہ ہوتا ہے۔
شرائط برائے اراکین انتخابی مجلس (Electoral College)و امیدواران
مسلح افواج یا خفیہ اداروں سے تعلق نہ ہو۔
پرانے نظام (بعث پارٹی) یا دہشت گرد تنظیموں کے حامی نہ ہوں۔
ملک کی تقسیم کے حامی نہ ہوں۔
اچھی ساکھ اور سماجی وقار رکھتے ہوں۔
نشستوں کی تقسیم کار
کل نشستیں:مجلسِ الشعب یعنی پارلیمنٹ میں کل 210 اراکین ہوں گے۔
ان میں سے ⅔ (دو تہائی) یعنی تقریباً 140 اراکین کو انتخابی مجالس منتخب کریں گی۔
باقی ⅓ (ایک تہائی) یعنی تقریباً 70 اراکین کو صدر براہِ راست نامزد کریں گے۔
انتخابی مہم
پاکستان کی طرح عام عوامی ریلیاں، جلسے یا بڑے بڑے انتخابی وعدے نہیں ہوں گے۔
امیدوار صرف اپنی مقرر کردہ انتخابی مجلس کے سامنے اپنی پالیسی اور منصوبہ پیش کر سکتے ہیں۔
انتخابی مہم صرف انہی مخصوص افراد تک محدود ہوگی۔
اب اس نظام کو پاکستانی مثال سے سمجھتے ہیں
اگر پاکستان میں یہی نظام ہوتا تو یوں ہوتا
عام ووٹر (عوام) کو ووٹ دینے کی اجازت نہ ہوتی۔
ایک کمیٹی ہر ضلع میں چند سو یا چند ہزار بااثر، معتبر اور منتخب شدہ افراد پر مشتمل “انتخابی مجلس ” بناتی۔
قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں جانے کے خواہش مند لوگ انہی مخصوص افراد کے سامنے اپنی پالیسی رکھتے۔
وہ مخصوص افراد اپنے ضلع کی نشستوں کے لیے نمائندے منتخب کرتے۔
اور اسمبلی کی کچھ نشستیں براہِ راست صدر (یا وزیراعظم) اپنی مرضی کے افراد کو دیتے ۔
محمد انس اعوان
استنبول ، ترکیہ










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔